حزب مردم بلوچستان Balochistan People’s Party بلوچستانءِ اُستمانءِ گــَل

 

 

Thursday, 27 July, 2006,

پاکستان: بلوچ ویب سائیٹوں پر پابندی

ریبا شاہد
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) کی جانب سےجاری کردہ ایک حالیہ ہدایت نامے کے مطابق ملک کی تمام انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو کچھ مخصوص بلوچ ویب سائٹس تک رسائی روکنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

چھبیس جولائی کو پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ اس ہدایت نامے میں چونتیس ویب سائٹس کی فہرست شائع کی گئی ہے۔ اس فہرست میں بیشتر ایسی ویب سائٹس شامل ہیں جن پر علاقائی زبان میں بلوچ قوم پرست تحریک سے وابسطہ مواد اور حکومت کی جانب سے بلوچستان میں فوجی آپریشن کے حوالے سے خبریں شائع کی گئی ہیں۔

اس فہرست میں ’ریڈیو بلوچ ڈاٹ آرگ‘ شامل ہے۔ یہ ویب سائٹ بلوچستان سے منسلک واقعات پر تحریری اور صوتی مواد شائع کرتی ہے۔ اس کے علاوہ فہرست میں ’بروہی ڈاٹ ٹی کے‘، ’گولبیگ ڈاٹ این یو‘ اور ’بلوچ یونین ڈاٹ کام‘ جیسی ویب سا‎ئٹس بھی شامل ہیں جو زیر تعمیر ویب سائٹس یا ’پارکڈ ڈومین‘ ظاہر ہوتی ہیں۔

اس فہرست میں ’بلوچ ڈاٹ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام‘ ، ’پیام بلوچ ڈاٹ پرشین بلاگ ڈاٹ کام‘ اور’ ڈوشہ ڈاٹ پرشین بلاگ ڈاٹ کام‘ جیسی مقامی زبان کے بلاگ بھی شامل ہیں۔




چونتیس ویب سائٹس کی فہرست میں بلوچ ویب سائٹس کے علاوہ ’سندھ ٹوڈے داٹ نیٹ‘ اور ’ورلڈ سندھی ڈاٹ آرگ‘ بھی موجود ہیں۔ ’سندھ ٹوڈے داٹ نیٹ‘ بظاہر سندھ کے بارے میں ایک ہفتہ وار آن لائن اشاعت معلوم ہوتی ہے۔ تاہم اس ویب سائٹ پر صوبائی خودمختاری کے حوالے سے جنرل مشرف کی کارکردگی کی تنقید کی گئی ہے۔ جبکہ ’ورلڈ سندھی ڈاٹ آرگ‘ سندھ میں حقوق انسانی کے امور سے متعلق ویب سائٹ ہے جس پر سندھ اور بلوچستان میں لاپتہ ہونے والے افراد اور بلوچستان کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبریں اور رپورٹیں شامل کی گئی ہیں۔

پی ٹی اے کے اس ہدایت نامے کے مطابق ’لائیو تھری سکسٹی فائو ڈاٹ کام‘ تک رسائی بند کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے جو انٹرنیٹ پر مفت ریڈیو براڈ کاسٹ سننے اور نشر کرنے کی سروس فراہم کرتی ہے۔

واضح رہے کہ پچیس اپریل کو پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں غلط معلومات کی تشہیر کو وجہ قرار دیتے ہوئے ملک میں تمام انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ’بلوچ وائس ڈاٹ کام‘، ’بلوچ 2000 ڈاٹ آرگ‘، ’بلوچ فرنٹ ڈاٹ کام‘، ’ہندو یونٹی ڈاٹ کام‘ اور ’سنا بلوچ ڈاٹ کام‘ تک رسائی روکنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

’ویب پر پابندی قومی مفاد میں‘

بی بی سی اردو ڈاٹ کام،

ریبا شاہد
کراچی

آزادی کا غلط استعمال کیا جا رہا تھا: وزیر مملکت

پاکستان میں وزیر مملکت برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام اسحاق خان خاکوانی نے پاکستان میں چونتیس ویب سائٹوں تک لوگوں کی رسائی روکنے کے فیصلے کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی نظر میں کچھ ایسی ویب سائٹیں آئی ہیں جن پر باغیانہ اور ملک و حکومت مخالف مواد موجود تھا۔

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) نے ایک ہدایت نامہ میں ملک میں تمام انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو چونتیس ویب سائٹس تک لوگوں کی رسائی روکنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ ’ان ویب سائٹوں میں سے بیشتر پر بلوچ قوم پرست تحریک سے وابستہ مواد اور حکومت کی جانب سے بلوچستان میں فوجی آپریشن کے حوالے سے خبریں شائع کی گئی ہیں۔ تعزیرات پاکستان کے مطابق ایسے مواد کی تشہیر و اشاعت قابل سزا جرم ہے۔ یہ بات درست ہے کہ بنیادی طور پر پرنٹ یا مطبوعہ مواد اس قانون کے زُمرے میں آ تا تھا مگر بدلتے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اب یہ قانون ملک دشمن اور قومی مفاد کے خلاف آن لائن اشاعت پر بھی عائد ہوتا ہے۔ یوں حکومتی ادارے انٹرنیٹ کے ذریعے ملک دشمن اور نسلی و لسانی بنیاد پر نفرت اور قومی تفریق کی ترغیب دینے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کا جواز رکھتے ہیں‘۔

اسحاق خان خاکوانی نے کہا کہ ’پی ٹی اے کی شائع کردہ فہرست میں زیادہ ترویب سائٹوں پر بلوچستان کے حوالے سے بلوچی، فارسی اور چند سائٹوں پر انگریزی اور اردو میں بھی ملک دشمن مواد شائع کیا گیا تھا۔ ان ویب سائٹوں پر جلاوطن بلوچ رہنماؤں کے پیغامات کے علاوہ ’گریٹر بلوچستان‘ کا جھنڈا اور نقشے شائع کیے گئے ہیں۔ اس نقشہ میں ایران کا کچھ حصّہ بھی شامل نظر آتا ہے۔ حکومت کسی فرد یا تنظیم کو دوسرے مملک کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دے سکتی‘۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ’یہ درست ہے کہ انٹرنیٹ پر اظہار آزادی آن لائن نظام کا ایک روشن پہلو ہے مگر چند افراد کے ہاتھوں اس آزادی کے غلط استعمال کی وجہ سے ایسی ویب سائٹوں تک رسائی روکنی ضروری ہو جاتی ہے‘۔

اسحاق خان خاکوانی کے مطابق حکومتی فیصلوں سے متاثرہ فریق ان اقدامات کو قانونی طور پر چیلنج کرنے اور عدالت میں اپنی صفائی پیش کر نے کا پورا حق رکھتے ہیں ـ مگر ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے حکومت کی جانب سےعائد کردہ پابندی کے بعد ان ویب سائٹس تک ملکی سطح پررسائی ممکن نہیں ہے تاہم پروکسی اور انانیمائزر ویب سائٹوں کے ذریعے ان تمام ویب سائٹوں تک رسائی ممکن ہے۔